Results for "کالم"
کماؤتے لاؤ - منیر احمد بلوچ
عمران خان نے مقابلہ حسن میں جج بننے سے کیوں انکار کیا
 منیر احمد بلوچ کا کالم کماؤتے لاؤ 
مقابلہ حسن کی انتظامیہ نے یہ سوچ کر کہ شائد اس نے کم معاوضہ کی وجہ سے مقابلہ حسن میں عالمی حسینہ کے چنائو کیلئے بطور جیوری کے فرائض ادا کرنے سے انکار کیا ہے ان سے دوبارہ رابطہ کرتے ہوئے پیشکش کی ۔لیکن اس شخصیت نے نہایت نرمی سے ایک بار پھر انکار کرتے ہوئے انہیں کہا کہ مسئلہ کم پیسوں کا نہیں ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس قسم کے مقابلہ حسن کی کوئی گنجائش ہی نہیں اور پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ میں اس میں بطور جج شرکت کرتے ہوئے عالمی حسینہ کا انتخاب کروں؟۔آپ سوچ سکتے ہیں کہ وہ شخص جسے آج سے23 برس قبل دس لاکھ روپے کی آفر کی جا رہی ہو وہ اسے اسلامی تعلیمات کی رو سے ٹھکرا دے اور ہمارے حضرات اس کو یہودی کے لقب سے پکاریں تو ایسوں کی ذہنیت کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے۔۔۔سوچئے کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں جب ملک کی عدالت عالیہ یہ فیصلہ دے دے کہ وہ خائن ہے تو ایسے شخص کی اگر مذہبی لوگ بیعت کرنا شروع کر دیں تو پھر نوجوان نسل ایسے لوگوں کے وعظ پر کس طرح یقین کر ے گی ؟


http://dunya.com.pk/index.php/author/munir-ahmed-baloch/2017-09-21/20757/82594057#.WcdUIW4Qp_l

MediaToday Saturday, 23 September 2017
اراکان کے مسلمان پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن قائداعظم نے کوئی جھوٹا وعدہ نہ کیا-قلم کمان۔۔۔ حامد میر
اراکان کے مسلمان پاکستان میں شامل ہونا چاہتے تھے لیکن قائداعظم نے کوئی جھوٹا وعدہ نہ کیا-قلم کمان۔۔۔ حامد میر

روہنگیا کون ہیں؟
ترکی کی خاتون اول ایمان اردوان کے آنسوئوں نے کروڑوں لوگوں کو رلادیا۔ وہ پچھلے دنوں روہنگیا مسلمانوں کی خبر گیری کیلئے بنگلہ دیش پہنچی تھیں جہاں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین ہیں۔ ایمان اردوان نے روہنگیا مہاجرین کے ایک کیمپ میں مظلوم عورتوں کی سسکیاں سنیں تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ انہوں نے مجبور روہنگیا عورتوں کو گلے سے لگایا، انہیں دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ ترکی انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ ایمان اردوان کے دورہ بنگلہ دیش کے بعد ترکی نے بنگلہ دیش کی حکومت سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کیلئے اپنا بارڈر کھول دے ان کے قیام و طعام کا تمام خرچ ترکی برداشت کرے گا۔ پاکستان میںبھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے واقعات پر خاص تشویش پائی جاتی ہے اور کئی شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بعض سیاستدانوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں میانمار کے سفیر کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اپنے مظلوم بہن بھائیوں تک کیسے پہنچا جائے؟ اکثر سیاستدان اور صحافی یہ بھی نہیں جانتے کہ روہنگیا کون ہیں؟ روہنگیا مسلمانوں کا پس منظر سمجھے بغیر یہ پتہ نہیں چلے گا کہ میانمار کی حکومت ان پر ظلم کیوں کررہی ہے؟ میانمار کا پرانا نام برما ہے۔ یہاں چین جانے والے عرب تاجروں نے اسلام متعارف کرایا تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں شاہ شجاع بنگال کا نگران تھا۔ اس نے اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کی جوناکام ہوگئی۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد وہ چٹاگانگ کے راستے سے برما کے علاقے اراکان میں روپوش ہوگیا۔ چٹاگانگ سے اراکان جانے والی ایک سڑک کو آج بھی شجاع روڈ کہا جاتا ہے۔ اراکان کے حکمران ساندہ ٹھودھاما نے شاہ شجاع سے وعدہ کیا کہ وہ اسے مکہ مکرمہ جانے کیلئے بحری جہاز فراہم کرے گا لیکن اس نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور شاہ شجاع کو لوٹ لیا۔ بعدازاں اورنگ زیب عالمگیر نے اپنی فوج بھیج کر چٹاگانگ پر قبضہ کر لیا جو اراکان کا حصہ تھا یوں چٹاگانگ کے راستے سے مغلوں اور بنگالیوں کی اراکان میں آمدورفت شروع ہوگئی۔
1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کی ناکامی کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں نظر بند کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے برما کو برٹش انڈیا کا حصہ بنا دیا اور بڑی تعداد میں انڈینز کو برما میں لا کر بسایا گیا جنہیں برٹش انڈینز کہا جاتا تھا۔ 1937ء میں برما کو برٹش انڈیا سے علیحدہ کردیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے برما پر قبضہ کر لیا تو مقامی بدھسٹوں نے جاپان کا ساتھ دیا۔ برطانوی فوج نے اراکان کے مسلمانوں کو اسلحہ فراہم کیا اور انہوں نے جاپانی فوج کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ برطانوی حکومت نے اراکان کے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے علاقے کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قبول کرلیا جائے گا لیکن درحقیقت ان مسلمانوں کو جاپانی فوج کا راستہ روکنے کیلئے استعمال کیا جارہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اراکان کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے رابطہ قائم کیا اور شمالی اراکان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان میں حصہ لینا شروع کردیا۔ 1947ء میں اراکان مسلم لیگ کا ایک وفد قائداعظم محمد علی جناح کو ملا اور درخواست کی کہ اراکان کو پاکستان میں شامل کرایا جائے کیونکہ اراکان اور چٹاگانگ کے لوگوں کی زبان اور رہن سہن میں زیادہ فرق نہیں لیکن قائداعظم نے ان کے ساتھ کوئی جھوٹا وعدہ نہ کیا۔ 1948ء میں برما کو بھی آزادی مل گئی۔ اراکان میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے اپنی آزادی کیلئے جہاد کا اعلان کردیا جس کے باعث پاکستان اور برما میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ برما کی حکومت نے الزام لگایا کہ اراکان کے باغی مسلمانوں نے چٹاگانگ میں اپنے تربیتی مراکز قائم کررکھے ہیں۔ یہ مزاحمت کئی سال تک جاری رہی اور 1962ء میں برما میں فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد ختم ہوئی۔ 1971ء میں بنگلہ دیش قائم ہونے کے بعد روہنگیا مسلمانوں کا پاکستان سے ر ابطہ کٹ گیا۔ 1982ء میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ برما کی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کردی، سرکاری نوکریوں سے بھی نکال دیا اور تعلیمی اداروں کے دروازے بھی ان پر بند کردیئے۔ روہنگیا مسلمانوں نے برما سے بھاگنا شروع کردیا۔ تقریباً دو لاکھ روہنگیا مسلمان پاکستان آگئے۔ کراچی کی اراکان کالونی اور برما کالونی میں یہی روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ بہت سے روہنگیا سعودی عرب چلے گئے۔ 2012ء اور 2016ء میں برما کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر مزید سختی شروع کی تو یہ ہجرت کر کے بنگلہ دیش، بھارت، ملائشیا اور تھائی لینڈ جانے لگے۔ اس دوران اراکان روہنگیا سالویشن آرمی نے برما کی سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کردیئے۔ اس تنظیم کا سربراہ عطاء اللہ ہے جس کے بارے میں برما کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں پیدا ہوا اور سعودی عرب میں پرورش پائی۔ عطاء اللہ کی سرگرمیوں کے باعث برما کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں پر مزید سختی کرنے کا جواز مل گیا۔ کچھ دن پہلے عطاء اللہ نے سیز فائر کا اعلان کردیا۔
روہنگیا مسلمانوں کی کل تعداد 15لاکھ سے زائد نہیں۔ ان کی بڑی اکثریت مہاجر بن چکی ہے اوردنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ برما پر چین کے ذریعہ دبائو ڈالا جاسکتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برما اور چین کی سرحد پر کاچن کے علاقے میں کاچن علیحدگی پسندوں کی ایک تنظیم بھی موجود ہے جو برما سے آزادی چاہتی ہے۔ اس تنظیم کی قیادت مسیحی ہے اور یہ تاثر موجود ہے کہ اس تنظیم کو کچھ مغربی طاقتیں سپورٹ کرتی ہیں۔ پاکستان کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد ضرور کرنی چاہئے اور ترکی کی طرح بنگلہ دیش کا بوجھ بانٹنا چاہئے، برما پر دبائو بھی ڈالنا چاہئے لیکن احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ہمیں غیر شعوری طور پر کسی ایسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہئے جس کا مقصد ون بیلٹ ون روڈ کے چینی منصوبے کو ناکام بنانا ہو کیونکہ ون بیلٹ ون روڈ میں برما کا اہم کردار ہے۔

MediaToday Wednesday, 13 September 2017
میرا جرم کیا ہے- عمار چودھری کی برما کے حوالے سے دردناک تحریر
برما میں مسلمانون پر ہونے والے مظالم کے حولے سے عمار چودھری کی دردناک تحریر -میرا جرم کیا ہے- 

MediaToday
دو محسن اور بھی ہیں

www.facebook.com/javed.chaudhry
www.facebook.com/javed.chaudhry
میاں نواز شریف کا پانچواں اور چھٹا محسن بھی تھا‘ یہ لوگ اگر عین وقت پر سامنے نہ آتے تو بھی شاید 2014ء کا دھرنا کامیاب ہوجاتا لیکن میں ان لوگوں کی طرف جانے سے پہلے چند مزید دلچسپ حقائق آپ کے سامنے لانا چاہتا ہوں۔
ہماری فیصلہ ساز قوتوں نے 1992ء میں تین مسٹر کلین تیار کیے تھے‘ یہ وہ زمانہ تھا جب بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف ایک ایک باری لے چکے تھے‘ اسٹیبلشمنٹ کا خیال تھا یہ دونوں مشکل لوگ ہیں‘ یہ مستقبل میں خوفناک مسائل پیدا کریں گے چنانچہ دونوں جماعتوں کے اندر بااثر‘ متحرک اور صاف ستھرے لوگ ضروری ہیں‘ یہ  مسٹرکلین دونوں لیڈروں پر دباؤ بھی ڈال سکیں اور یہ مشکل وقت میں پارٹی بھی چلا سکیں‘  پیپلز پارٹی میں سردار فاروق احمد لغاری اور  مسلم لیگ میں میاں شہباز شریف میں پوٹینشل نظر آیا چنانچہ دونوں پر شفقت شروع ہو گئی جب کہ عمران خان کو تیسری قوت بنانے کا فیصلہ کیا گیا‘ آپ اگر تھوڑی سی تحقیق کریں تو آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے  تحریک انصاف کے پہلے سیکریٹری جنرل صدر ضیاء الحق کے قریبی ساتھی  جنرل مجیب الرحمن تھے‘ یہ ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے ماسٹر مائینڈ بھی تھے۔
عمران خان کی پارٹی کا منشور بھی جنرل مجیب نے تیار کیا تھا اور دفتر بھی انھوں نے کھولا تھا‘یہ طویل عرصہ تک پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے‘ یہ روز دفتر آتے تھے جب کہ عمران خان کبھی کبھی دفتر بیٹھتے تھے‘ ملکی تاریخ میں 1990ء کی دہائی بہت اہم تھی‘فارق احمد لغاری صدر بنے‘ بینظیر بھٹو کی حکومت ختم کی‘ احتساب کے نام پر قومی حکومت بنانے کی کوشش کی‘ ناکام ہوئے‘ پیپلز پارٹی کو توڑنے کے لیے ملت پارٹی بنائی‘ یہ منصوبہ بھی ناکام ہوا اوریہ اکتوبر 2010ء میں بیمار ہو کر انتقال کر گئے یوں پہلا مسٹر کلین تاریخ کا حصہ بن گیا‘ دوسرا مسٹر کلین میاں شہباز شریف ہیں‘ یہ 1997ء میں وزیراعلیٰ پنجاب بنے اور اپنی پرفارمنس سے پوری دنیا کو حیران کر دیا‘ جنرل جہانگیر کرامت ہوں‘ جنرل مشرف ہوں‘ جنرل کیانی ہوں یا پھر جنرل راحیل شریف ہوں فوج کا ہر قائد میاں شہباز شریف کا قدر دان رہا‘ یہ تمام آرمی چیف شہباز شریف کے ساتھ کمفرٹیبل بھی تھے اوریہ انھیں ’’آگے بڑھیں‘‘ کا اشارہ بھی کردیتے رہے‘ جنرل مشرف بریگیڈیئر نیاز کے ذریعے جدہ میں بھی میاں شہباز شریف کے ساتھ رابطے میں تھے۔
آپ فوج کے کسی ریٹائر یا حاضر سروس جنرل سے بات کر لیں وہ میاں شہباز شریف کا ’’فین‘‘ نکلے گا لیکن اس تمام تر سپورٹ‘ محبت‘ تعریف اور قدردانی کے باوجود میاں شہباز شریف اپنے بڑے بھائی کا ساتھ چھوڑنے‘ بغاوت کرنے یا بھائی کو دھوکا دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے‘ یہ ان کی وہ واحد کمزوری تھی جس کی وجہ سے یہ آج تک وزیراعظم نہیں بنے لیکن یہ ’’بانڈ‘‘ کب تک برقرار رہے گا‘ پاکستانی قیادت کا مستقبل اس سوال پر استوار ہے اور پیچھے رہ گئے عمران خان تو یہ کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں‘ پوری دنیا ان کے نام اور چہرے سے واقف ہے‘ یہ جرات مند بھی ہیں اور ایماندار بھی چنانچہ یہ ملک کی روایتی سیاست اور روایتی جماعتوں کو ’’ڈینٹ‘‘ ڈال سکتے تھے‘ یہ ملک کو متبادل قیادت بھی فراہم کر سکتے تھے لیکن یہ اپنی افتادہ طبع کے اسیرنکلے‘ یہ وہ خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ 2011ء تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
یہ اپنی پارٹی کو بھی ڈویلپ نہ کرسکے‘ جنرل مشرف نے 2000ء میں انھیں وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا تھا‘ جنرل مشرف نے عمران خان سے ملاقات بھی کی اور عمران خان نے جنرل مشرف کے ریفرنڈم کا ساتھ بھی دیا لیکن جنرل مشرف کے بقول ’’یہ امیچور تھے‘ انھیں مزید وقت چاہیے تھا‘‘ عمران خان کا یہ وقت 2011ء تک گیا‘ عمران خان نے30اکتوبر کواچانک لاہور میں ایک کامیاب جلسہ کیا اور تمام فیصلہ ساز قوتوں کو حیران کر دیا‘ جنرل کیانی اس وقت آرمی چیف اور جنرل پاشا ڈی جی آئی ایس آئی تھے‘ جنرل پاشا نے جلسے کے بعد عمران خان سے ملاقات کا فیصلہ کیا‘ جنرل کیانی سے باقاعدہ اجازت لی اور یہ لاہور میں زمان پارک میں عمران خان سے ملے۔
جنرل پاشا نے ملاقات کے دوران عمران خا ن سے کہا ’’میں آپ کو ہیرو نہیں سمجھتا‘ میں آپ کو سیاستدان بھی نہیں مانتا‘ میں آپ کو صرف تین وجوہات سے پسند کرتا ہوں‘‘ خان نے وجوہات پوچھیں‘ جنرل پاشا نے جواب دیا ’’آپ اور میری پیدائش کا سال ایک ہے‘ آپ کے والدین بھی جالندھر سے پاکستان آئے تھے اور میرے والدین بھی وہاں سے تعلق رکھتے تھے اور تیسری وجہ میں شاید شاید آپ کی جرات سے متاثر ہوں‘‘ عمران خان نے اس کے بعد جنرل پاشا کے لیے چائے منگوائی اور اپنی لیے اسٹابری جوس‘ جنرل پاشا نے مشورہ دیا آپ اپنی پارٹی پر توجہ دیں‘ اچھے لوگ لے کر آئیں اور پارٹی میں ڈسپلن قائم کریں‘ جنرل پاشا نے عمران خان سے کہا ’’آپ کو اگر مستقبل میں فنڈز کی ضرورت ہوئی تو میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں‘‘ عمران خان نے فنڈز لینے سے صاف انکار کر دیا‘ ان کا کہنا تھا ’’جنرل صاحب میں نے جس دن پیسے لے لیے اس دن میرے اندر جرات ختم ہو جائے گی‘‘ جنرل پاشا کے بقول ’’عمران خان کے جواب سے میرے دل میں اس کی قدر میں اضافہ ہو گیا‘‘ جنرل پاشا زمان پارک سے نکلنے لگے تو ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔
عمران خان جنرل کو باہر چھوڑنے آئے‘ یہ دونوں گاڑی کے قریب پہنچے تو موٹر سائیکل پر دو نوجوان آ گئے‘ عمران خان گھبرا گئے‘ انھوں نے منہ سے خدا حافظ کہا اور جنرل پاشا سے ہاتھ ملائے بغیر اندر چلے گئے‘ جنرل پاشا کو یہ رویہ برا لگا‘ جنرل نے اس کا بدلہ بعد ازاں بنی گالا میں لیا‘ میں یہ واقعہ آپ کو پھر کسی وقت سناؤں گا‘ سردست ہم آگے بڑھتے ہیں‘ جہانگریز ترین اور شفقت محمود کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کرنے کا الزام جنرل پاشا پر لگتا ہے‘ جنرل پاشا ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتے ہیں تاہم یہ حقیقت ہے جہانگیر ترین سیاست سے کنارہ کش ہو چکے تھے‘ یہ کاروبار تک محدودہو گئے تھے‘ یہ آصف علی زرداری تھے جنہوں نے جنرل پاشا کو ایوان صدر سے فون کیا اور جہانگیر ترین کو راولپنڈی میں ان کے آفس میں بھجوایا‘ جہانگیر ترین کو ایک سکھ انجینئر کے لیے این او سی چاہیے تھا‘ یہ این او سی تین سال سے لٹکا ہوا تھا‘ جنرل پاشا نے ایک دن میں این او سی جاری کرا دیا اور یوں جہانگیر ترین اور جنرل پاشا میں رابطے شروع ہو گئے۔
جنرل بعد ازاں جہانگیر ترین سے ملاقات کے لیے لودھراں بھی گئے‘ جنرل کیانی اور جنرل پاشا دونوں شفقت محمود کو بھی پسند کرتے تھے‘ یہ جب بھی لاہور جاتے تھے یہ شفقت محمود سے ضرور ملتے تھے لیکن اس کے باوجود جنرل پاشا دعویٰ کرتے ہیں ’’میں نے ان دونوں کو پی ٹی آئی میں شامل نہیں کرایا‘‘ تاہم یہ اپنی نجی محفلوں میں یہ ضرور مانتے ہیں ’’پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب جنرل کیانی حکومت سے مکمل مایوس ہو گئے تھے اور انھوں نے مجھ سے کہا تھا یہ لوگ نہیں چلا سکیں گے‘ ہمیں کچھ کرنا ہو گا ورنہ یہ ملک نہیں بچے گا‘‘ وہ یہ بھی مانتے ہیں یہ اس وقت دونوں پارٹیوں کی قیادت سے مایوس تھے اور وہ یہ بھی مانتے ہیں ’’میں دھرنے کے آئیڈیا کے خلاف تھا‘ میں ریٹائر ہو چکا تھا لیکن میں کہتا رہا تھا‘ جنرل راحیل شریف یہ بوجھ نہیں اٹھاسکیں گے‘ دھرنا کامیاب نہیں ہوگا‘‘۔
ہم اب میاں نواز شریف کے پانچویں محسن کی طرف آتے ہیں‘ یہ پانچواں محسن جاوید ہاشمی تھا‘ جاوید ہاشمی نے عین وقت بغاوت کر کے دھرنے کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی‘ جاوید ہاشمی نے 31 اگست 2014ء کو پہلے پریس کانفرنس کی اور 2 ستمبر کو قومی اسمبلی میں جا کر استعفیٰ دے دیا‘ جاوید ہاشمی کی اچانک پریس کانفرنس نے عمران خان اور اچانک استعفے نے میاں نواز شریف کو پریشان کر دیا‘ کیسے؟ یہ حقیقت بھی بہت دلچسپ ہے‘جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سپریم عدلیہ کو ’’بیک فٹ‘‘ پر کر دیا تھا ‘یہ دونوں وضاحتوں پر مجبور ہوگئے اور یوں عمران خان اکیلے ہو گئے جب کہ حکومت جاوید ہاشمی کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بنوانا چاہتی تھی‘ پاکستان تحریک انصاف کے آٹھ ارکان جاوید ہاشمی کے ساتھ تھے اور چھ رکن حکومت سے رابطے میں تھے۔
خواجہ سعد رفیق نے جاوید ہاشمی کو پیش کش کی ’’آپ پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنائیں‘ہم آپ کو حکومت میں شامل کر لیں گے‘ حکومت میں آپ کا اسٹیٹس میاں نواز شریف کے برابر ہو گا‘‘ جاوید ہاشمی اس پیشکش پر اس دن خاموش رہے لیکن اگلے دن قومی اسمبلی میں استعفیٰ پیش کر کے یہ آفر مسترد کر دی، یوں باغی نے عمران خان اور نواز شریف دونوں کو ناراض کر دیا لیکن یہ اس کے باوجود میاں نواز شریف کے محسن ہیں‘ یہ اگر اس دن سامنے نہ آتے تو شاید میاں نواز شریف اس وقت وزیراعظم نہ ہوتے لیکن ان کے ساتھ ساتھ ایک چھٹا کردار بھی تھا‘ وہ کردار چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی تھے‘ وہ اگر دباؤ یا لالچ میں آ جاتے تو شاید دھرنے کی نوبت ہی نہ آتی اور میاں نواز شریف کے ساتھ جون 2014ء میں وہ ہو جاتا جو پانامہ کیس میں 2016ء میں ہوتا رہا اورجو پانامہ کے فیصلے کے بعد ہو گا چنانچہ حکومت کو جاوید ہاشمی اور جسٹس تصدق حسین جیلانی دونوں کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے‘ یہ ان کے رچرڈ اولسن سے بڑے محسن ہیں۔

MediaToday Monday, 4 September 2017
کیا مریم نواز کا اپریشن اور بیماری جعلی ہے ؟
کیا مریم نواز کا اپریشن اور بیماری جعلی ہے ؟
ایک صحافی نے تہلکہ خیزانکشافات کر دیا

MediaToday Friday, 1 September 2017
>