Results for "پاکستان"
ایمرجنسی لگانے سے پہلے مشرف نے صلاح و مشورہ نہیں کیا، انکوائری رپورٹ
musharraf did not consult before implementing emergency inquiry reports
اسلام آباد (انصار عباسی) ایف آئی اے کی انکوائری سے ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سابق فوجی حکمراں جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے 3 نومبر 2007ء کے اقدام سے قبل کابینہ، وزیراعظم اور گورنروں وغیرہ سے کوئی مشورہ کیا۔ 
لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول، متعلقہ سیکرٹریز اور صدر و وزیراعظم کے پی ایس صاحبان کسی نے بھی سابق آمر کے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ 
3 نومبر 2007ء کو ایمرجنسی کے نفاذ کی ایف آئی اے رپورٹ جس پر پرویز مشرف کے خلاف انتہائی غداری کے مرتکب ہونے کا مقدمہ بنا، اس کے مطابق اس بات کے ’’ناقابل تردید ثبوت اور ٹھوس دستاویزی شہادتیں‘‘ موجود ہیں کہ سابق فوجی آمر نے آئین کو سبوتاژ کیا اور غیر قانونی طور پر اپنے شخصی اقتدار کو طول دینے کے لئے ججوں کو برطرف کیا۔ 
ایف آئی اے انکوائری رپورٹ کی دستیاب نقل کے مطابق اس وقت کے اٹارنی جنرل، کابینہ سیکرٹری، صدر و وزیراعظم کے سیکرٹریز اور سیکرٹری قانون میں سے کسی نے بھی پرویز مشرف کے دعوے کی توثیق نہیں کی کہ انہوں نے اپنے غیرآئینی اقدام کے لئے کابینہ سمیت کئی ایک سے صلاح و مشورے کئے تھے۔ 
اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے بھی صلاح و مشورے کے حوالے سے پرویز مشرف کے دعوے کی تردید کی۔ 
اس وقت کے اٹارنی جنرل جسٹس (ر) ملک قیوم نے بھی واضح طور پر تردید کی کہ انہیں کوئی تحریری سفارش پیش کی گئی اور نہ ہی ایمرجنسی کے نفاذ کا معاملہ ان کے ساتھ زیربحث آیا یا مشورہ مانگا گیا۔ 
رپورٹ کے مطابق ملک قیوم کا کہنا تھا کہ انہیں 3 نومبر کےاقدام کا کوئی پیشگی علم نہ تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بات بڑے پیمانے پر معلوم تھی کہ پرویز مشرف ایمرجنسی کے اعلان کےلئے وزیراعظم کے سینئر مشیر قانون شریف الدین پیرزادہ سے مشورے لے رہے تھے۔ 
وزارت دفاع اور جی ایچ کیو کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ’’انکوائری ٹیم نے اعلان ایمرجنسی سے متعلقہ سمری، نوٹس اور تجاویز وغیرہ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ تاہم وزارت دفاع کی جانب سے انظار رضوی کو فوکل پرسن مقرر کئے جانے کے باوجود انکوائری ٹیم کو کوئی متعلقہ دستاویز فراہم کی گئی اور نہ ہی دکھائی گئی۔ 
اس وقت کے پرنسپل سیکرٹری قانون جسٹس (ر) میاں محمد اجمل نے ایف آئی اے ٹیم کو بتایا کہ انہیں اعلان ایمرجنسی کے حوالے سے کسی سمری کا کوئی علم ہے اور نہ ہی ان کے دفتر سے یہ اعلان جاری ہوا ہے تاہم اعلان جاری ہونے پر وزیراعظم سیکرٹریٹ نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی برطرفی کے نوٹیفکیشن پر دستخط کرنے کے لئے کہا۔ 
میاں اجمل کے مطابق پرویز مشرف نے ان سے کبھی مشورہ نہیں چاہا۔ بڑے پیمانے پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ پرویز مشرف ملک قیوم، شریف الدین پیرزادہ اور احمد رضا قصوری ہی سے صلاح و مشورے کرتے ہیں۔ 
اس وقت کے سیکرٹری کابینہ مسعود عالم رضوی نے کہا کہ ان کے دور ملازمت میں اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز نے صدر کو ایمرجنسی کے نفاذ کا کبھی مشورہ نہیں دیا جبکہ 3 نومبر 2007ء کو پرویز مشرف نے بحیثیت چیف آف آرمی اسٹاف کے دستخط کئے۔ 
رضوی نے مزید کہا کہ ان کے علم کے مطابق اعلان ایمرجنسی سے قبل اس کے نفاذ پر کابینہ میں غور ہوا اور نہ ہی وزیراعظم نے سمری صدر کو پیش کی۔ تاہم رضوی اس بات کی وضاحت نہیں کر سکے کہ انہوں نے پرویز مشرف کے دستخط سے اعلان ایمرجنسی کا نوٹیفکیشن وزیراعظم کی منظوری کے بغیر کیوں جاری کیا جو حکومت کے ایگزیکٹیو سربراہ تھے۔ 
اس وقت صدر کے سیکرٹری محسن حفیظ کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کا حکم چیف آف آرمی اسٹاف کی حیثیت سے پرویز مشرف نے جاری کیا لہٰذا صدارتی سیکرٹریٹ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ صدر کے اس وقت سیکرٹری کو اس موضوع پر اجلاس، سمری اور تفصیلات کا بھی کوئی علم نہیں۔ 
تاہم انہوں نے سوال اُٹھایا کہ کس طرح سے کابینہ سیکرٹری وزیراعظم کی تحریری منظوری کے بغیر ایمرجنسی نفاذ کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتا ہے؟ اس وقت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری خالد سعید نے کہا کہ ان کے علم کے مطابق شوکت عزیز اور پرویز مشرف کے درمیان کوئی باقاعدہ سرکاری ملاقات نہیں ہوئی اور ان کی معلومات کے مطابق وزیراعظم دفتر کو ججوں کے رویوں پر کوئی رپورٹ، شہادت یا دستاویز وزارت قانون کی جانب سے موصول نہیں ہوئی۔ 
تاہم وہ اس کی وضاحت نہیں کر سکے کہ کابینہ سیکرٹری نے وزیراعظم کے علم یا منظوری کے بغیر نفاذ ایمرجنسی کا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا؟ چیف آف آرمی اسٹاف اور کابینہ سیکرٹری نے وزیراعظم سے بالواسطہ منظوری حاصل کی ہو۔ 
اس وقت کے گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد مقبول نے ایف آئی اے ٹیم کو اپنے تحریری بیان میں کہا کہ پرویز مشرف کا نفاذ ایمرجنسی پر وزیراعظم اور گورنروں وغیرہ سے مشاورت کا دعویٰ غلط ہے۔ 
خالد مقبول سے قانون کے مطابق ذاتی طور پر اپنا بیان ریکارڈ کرانے کے لئے کہا گیا لیکن وہ ایف آئی اے میں پیش نہیں ہوئے۔ 
ایف آئی اے رپورٹ میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کو بھی تحقیقات میں شامل ہونے کے لئے کہا گیا اور اپنے دفاع میں بیان دیں لیکن ان کے وکلاء صفائی نے بتایا کہ ریٹائرڈ جنرل بیمار پڑ گئے ہیں اور تحقیقات میں شامل نہیں ہو سکتے۔ 
بعدازاں وہ شامل ہو جائیں گے لیکن انہوں نے تعاون نہیں کیا۔ ایف آئی اے ٹیم نےا پنی تحقیقات 16 نومبر 2013ء کو مکمل کر لی تھی۔ سفارش کی گئی کہ وفاقی حکومت میں مجاز اتھارٹی خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف انتہائی غداری ایکٹ کے تحت شکایت درج کرا سکتی ہے۔ 
ٹیم نے مزید سفارش کی کہ مجاز اتھارٹی 3 نومبر 2007ء کو غیرآئینی ایمرجنسی کے نفاذ میں سہولت کاروں کے کردار کو بھی خاطر میں لے سکتی ہے۔

MediaToday Friday, 20 December 2019
شہزادہ ولیم اور شہزادی میڈلٹن کا دورہ پاکستان، مقاصد کیا تھے؟
شاہی جوڑے کا دورہ پاکستان کی سیاحتی انڈسٹری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا

شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کے حالیہ دورہ پاکستان کو کینزنگٹن پیلس کے ترجمان نے پیچیدہ قرار دیا اور اس کی وجہ سکیورٹی خدشات بتائی گئی ۔


بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہے کہ آج سے تیرہ سال قبل2006ء میں ان کے والد پرنس آف ویلز شہزادہ چارلس پاکستان آئے تو ان کے مجوزہ پروگرام میں پشاور کے ایک اعتدال پسند مدرسے کا دورہ بھی شامل تھا لیکن29 اکتوبر سے تین نومبر تک، شہزادے کے دورے کے دوران باجوڑ کے ایک مدرسے پر ڈرون حملے اور بڑے پیمانے پر طلبہ کی شہادت کے باعث سکیورٹی وجوہات کے با عث مدرسے کا یہ دورہ ممکن نہ ہوا۔

حالیہ دورے میں شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کی قرآن مجید سننے کی روداد کو پاکستان اور مسلم دنیا میں بہت دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔ بلا شبہ شاہی جوڑے کا یہ اقدام بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا جس کی آج دنیا کو بہت ضرورت ہے۔
اس سے قبل ولیم کی دادی ملکہ ایلزبتھ خود بھی پاکستان آچکی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ برطانیہ کا شاہی خاندان اب تک اس سلطنت کے اُن حصوں میں دلچسپی رکھتا ہے جس پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور اسی لئے گاہے بگاہے اپنے سنہرے ادوار کی یادیں تازہ کرنے کے لئے(انگریزی اصطلاح میں اسے نوسٹلجیا کو مطمئن کرنا بھی کہہ سکتے ہیں) ایسے دورے ضروری ہیں۔

ظاہر ہے کہ یہ دورے سیاسی نہیں ہوتے لیکن ان کے علامتی اثرات کے دور رس ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے۔ نوسٹلجیا کے حوالے سیان دوروں کی علامتی اہمیت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ ایسے دورروں میں پاک افغان بارڈر پر واقع پشاور پاک کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرحد سے ملحق کیلاش کا علاقہ چین کی سرحد سے ملحق گلگت بلتستان بھی عموماً شامل ہوتے ہیں جو مملکت برطانیہ کی انڈیا میں آخری سرحدیں یا چیک پوسٹس تھیں۔

اہم بات یہ ہے کہ حالیہ شاہی دورہ برطانوی فارن آفس کی خواہش پر، اس کے اپنے ڈیزائن کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ شاہی جوڑے کے پاکستانی ملبوسات، رکشا کی سواری، غیر معمولی سادگی، عوام، بچوں یہاں تک کہ کتوں کے ساتھ بھی گھل مل جانے کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ کیٹ مڈلٹن کی آنجہانی ساس پرنسز آف ویلز لیڈی ڈیانا کے تذکرے بھی دوبارہ زبانوں پر ہیں۔

ولیم کی والدہ ڈیانا خود عوام میں گھل مل جانے والی خاتون تھیں۔ ان کے شاہی خاندان سے اختلافات کی ایک وجہ شاہی خاندان کی روایات کے برعکس ان کا عوامی انداز بھی تھا جو ان کی ساس کو قطعاً پسند نہیں تھا لیکن وقت کی ستم ظریفی دیکھئے کہ آج ڈیوک اینڈ ڈچز آف کیمبرج کا ’’عوامی‘‘ دورہ خود برطانوی فارن آفس نے ترتیب دیا ہے کہ ڈیانا اپنی مختصرعمر میں عوامی انداز کو برطانوی شاہی خاندان کی اقدار و روایات کا حصہ بنا گئیں۔

کوئی وقت تھا ،جب ہندوستان میں پیدا ہونے والے برطانوی بچوں کے والدین انہیں برطانیہ بھجوا دیتے تھے کہ انہیں ہندوستان کی ہوا نہ لگ جائے۔’’نائن ٹین ایٹی فور‘‘ نامی مقبول ناول کے مصنف جارج اورویل، اپنے ناول ’’کم‘‘ میں، برطانیہ اور روسی سلطنت کے درمیان گریٹ گیم کے موضوع کو مرکزی خیال بنانے والے اور انگریزی ادب کا پہلا نوبل پرائز حاصل کرنے والے رڈ یارڈ کپلنگ کے علاوہ کشمیر، چین اور مشرقی ترکستان پر اولین سفر ناموں کے مصنف معروف مہم جو سر فرانسس ینگ ہزبینڈ، تینوں ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن انہیں چھوٹی عمر میں انگلستان بھجوا دیا گیا۔

اس دور میں انگریز اپنی سماجی زندگی کو ہندوستانیوں سے قدرے دور رکھنا چاہتے تھے۔ پاکستان کے معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی نے اس موضوع پر ایک پوری کتاب لکھی ہے۔ ہندوستانیوں سے فاصلہ رکھنے میں انگریز کتنا سنجیدہ تھا، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انگریز طوائفوں کو ہندوستان میں پریکٹس (دھندہ کرنے) کی اجازت نہیں تھی۔

پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ ڈیانا، برطانیہ ہی کی نہیں بلکہ دنیا کی تاریخ کیمقبول ترین برطانوی شہزادی ایک پاکستانی ڈاکٹر کے پیچھے پاکستان پہنچ گئیں۔ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائماکی مدد سے وہ پشاور میں ڈاکٹر حسنات کے خاندان سے ملیں لیکن شہزادی کی قریب ترین دوستوں کے مطابق خود ڈاکٹر حسنات نے یہ کہہ کر ان سے شادی سے انکار کر دیا کہ وہ میڈیا کی لائم لائٹ سے دور رہنا چاہتے ہیں۔ پاپا رازی میڈیا کی غیر ذمہ داری نے شہزادی کی جان لے لی لیکن ڈاکٹر حسنات اس میڈیا کی چکا چوند سے خود کو نہ بچا سکے۔

2013 ء میں ایک برطانوی نشریاتی ادارے نے شہزادی کی زندگی پر ایک سیریل نشر کی جس میں ان کی زندگی کے آخری دو برسوںکو فوکس کیا گیا تو ڈاکٹر حسنات سے ان کے رومانس کی تفصیلات دنیا کے سامنے آنا ناگزیر ہوگئیں۔ ٹینا براؤن نامی صحافی نے ’’ڈیانا کرونکلز‘‘ نامی کتاب تصنیف کی جس میں شہزادی کی ذاتی زندگی سے متعلق ان کے ذاتی اسٹاف، دوستوں اور قریبی رشتے داروں سے ڈھائی سو سے زائد انٹرویوز کیے تو ان کی نا آسودہ ازدواجی زندگی اور ڈاکٹر حسنات کا ذکر ناگزیر تھا۔

شہزادی کی متعدد قریبی دوستوں نے گواہی دی کہ مصری نوجوان ’دودی فائد‘ جن کے ساتھ وہ پیرس کی ایک سرنگ میں تیز رفتاری کی وجہ سے ماری گئیں، کا ساتھ محض ڈاکٹر حسنات کو حسد کا شکار کرنا تھا ورنہ شہزادی کو اس نو دولتئے میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ نائن الیون سے چند سال قبل اگرڈٖیانا اس پاکستانی ڈاکٹر کو شادی پر راضی کرنے میں کامیاب ہوجاتیں توبڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے اس دور میں دنیا پر پاکستان اور اسلام کے حوالے سے کیا اثرات مرتب ہوتے!

پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کے شہزادی ڈیانا سے مراسم رہے۔ شہزادہ ولیم بچپن میں اپنی والدہ کے ہمراہ پاکستان آئے تو انہوں نے وزیر اعظم کے گھر کرکٹ کھیلی۔ آج بھی شہزادوں کے ان کی سابق اہلیہ جمائما اور بیٹوں سے مراسم ہیں۔ اُس وقت عمران اور جمائما میاں بیوی تھے۔ ڈیانا کی آخری رسومات کی لائیو فوٹیج میں بھی یہ دونوں دیکھے گئے تھے۔ آخری رسومات میں عمران خان مروجہ رسم کے مطابق سیاہ سوٹ میں ملبوس تھے۔آج بھی شاہی جوڑے کی وزیر اعظم سے ذاتی ملاقات میں کوئی سفارتی یا ڈپلومیٹک تصنع موجود نہیں تھا۔ خان کو برابری کی بنیاد پر سابق آقاؤں کے بچوں سے تعلقات دیکھ کر بہت سے لوگوں کو خوشی ہوئی۔

برطانوی شاہی جوڑے کے عوامی دورے کو برطانوی اخبارات نے بھی بہت کوریج دی۔ امید ہے اس سے پاکستان میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا اور مذہبی ہم آہنگی کو بھی۔ پاکستان میں مغرب سے نفرت اور بے جا تعصب کے روئیے میں بھی کمی آئے گی۔ شاہی جوڑے کے پروگرام میں پاک افغان سرحد کے ایک علاقے کا دورہ بھی شامل تھا جو خبروں کے مطابق موسم کی خرابی کی وجہ سے ممکن نہ ہوا۔

اہم بات جو بہت کم لوگوں کو معلوم ہے وہ یہ ہے کہ ولیم کے والد شہزادہ چارلس خود مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں کوشاں رہے ہیں۔ اکتوبر2006ء میں ہونے والے دورے کے دوران برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ چارلس کو اسلام اور مغرب کے مابین تقسیم کے تناظر میں ایک پل کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ ’مسلم ہیریٹیج‘ نامی ایک ادارے کے سر پرست بھی ہیں جس نے قرون وسطیٰ کے زمانوں کی مسلم ایجادات پر مشتمل نمائش دنیا کے اہم شہروں میں منعقد کی اور ماضی کی شاندار اسلامی تہذیب کو دنیا کے سامنے لانے کا سبب بنی۔ اس ادارے کی سرپرستی ظاہر کرتی ہے کہ اسلامو فوبیا کے اس دور میں شہزادہ چارلس اسلام کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے لانے میں ذاتی دلچسپی رکھتے ہیں۔

2006ء میں ان کے مدرسے کا دورہ اگر ممکن ہو جاتا تو دنیا میں پاکستان، دینی مدارس اور خود اسلام کے بارے میں ایک مثبت تصویر ابھرتی لیکن ان کے دورے کے دوران باجوڑ حملے نے جسے پاکستانی فوج کے ترجمان اور افغانستان میں امریکی فوج نے پاکستانی فوج کی اپنی کاروائی قرار دیا، اسے منسوخ کرنے پر مجبور کردیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیوں کیا گیا جب اسلام اور مغرب کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کے حوالے سے معروف شہزادہ چارلس ایک مسلمان ملک کے دورے پر تھے۔

یاد رہے کہ جس روز فجر سے پہلے یہ حملہ کیا گیا، اس روز پاک فوج اور قبائلیوں کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جانا تھا اور اس مدرسے کے مہتمم مولانا لیاقت اس معاہدے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔’لونگ وار‘ نامی ایک تحقیقی جریدے نے اپنی ایک رپورٹ میں یہ سوال اٹھائے کہ ایسے وقت میں جب معاہدہ ہونے جا رہا تھا، اس حملے کا کیا جواز تھا؟ ظاہر ہے کہ حملے کا مقصد معاہدے کو سبوتاژ کرنا تھا لیکن شہزادہ چارلس کے مدرسے کے دورے کو منسوخ کرنا بھی اس کا ایک مقصد ہو سکتا ہے۔ سوال یہ بھی ہے وہ کون سے عناصر تھے جو چاہتے تھے کہ معاہدہ نہ ہویا شہزادہ مدرسے کا دورہ نہ کریں؟ پاکستانی فوج یا ان کے حلیف امریکی؟

مولانا لیاقت اللہ پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے القاعدہ کے دہشت گردوں کو پناہ دی ہوئی تھی۔ ایک اہم مغربی اخبار نے لکھا کہ اگر ٹارگٹ مولانا تھے تو انہیں ان کے گھر سے مدرسے کے راستے میں کسی جگہ مارا جا سکتا تھا، یوں بڑی تعداد میں طلبہ کی جان بچائی جاسکتی تھی۔ عین فجر کے وقت مدرسے کے اندر حملے کا فیصلہ کس کا تھا؟’بورو آف انویسٹی گیشن‘ نامی تحقیقی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ حملے کا جواز ایمن الزواہری کی وہاں موجودگی بھی بتائی گئی حالانکہ ایمن الظواہری کبھی باجوڑ نہیں گئے۔ بعد ازاں خود مغربی میڈیا کی تحقیق کے مطابق یہ امریکی ڈرون کا حملہ ثابت ہوا جس میں پاکستانی ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔

عالمی جریدے ’اکنامسٹ‘ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان پر اس حوالے سے تنقید ہوتی رہی ہے کہ یہ مغربی رہنماؤںکے دوروں سے پہلے مشتبہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے ہیں تاکہ مغرب کو یہ بتایا جا سکے کہ پاکستان دہشت گردی کی جنگ میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

اس سے قبل صدر بش کی پاکستان آمد کے موقع پر بھی ایک کاروائی کی گئی۔ یاد رہے کہ صدر بش کے برعکس جن کے پروگرام میں اسلام آباد سے باہر کسی مقام کا دورہ شامل نہیں تھا ، شہزادہ چارلس اور ان کی اہلیہ کے دورے میں پاک افغان بارڈر اور شمالی علاقہ جات کے مختلف علاقوں کا دورہ بھی شامل تھا۔

اگر پشاور کے مدرسے کا دورہ ممکن ہوتا تو بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے اس دور میں دنیا کو پاکستان، دینی مدارس اور خوداسلام کے بارے میں ایک مثبت تاثر ملتا جو شاید اسلاموفوبیا کی انڈسٹری کے کرتا دھرتاؤں کو منظور نہیں تھا۔ امید ہے کہ اب تیرہ برس بعد ،شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کا دورہ پاکستان اور اس کی بڑھتی ہوئی سیاحتی انڈسٹری کے بارے میں ایک مثبت تاثر قائم کرنے میں بھی مدد دے گا اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں بھی۔

MediaToday Sunday, 3 November 2019
جے یو آئی کا حکومت کی دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع اور آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ
اسلام آباد میں پولیس اور رینجرز نے فلیگ مارچ بھی کیا فوٹو: فائل

اسلام آباد: اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے مولانا فضل الرحمان کی حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کا آج آخری روز ہے تاہم جے یو آئی نے ڈیڈ لائن میں ایک دن کی توسیع اور کسی بھی حتمی اقدام کے لیے آل پارٹیز بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ کے شرکا چوتھے روز بھی موجود ہیں۔ مارچ میں شریک جے یو آئی (ف) کے کارکنوں کا جوش و ولولہ تاحال جوان ہے۔ نمازِ فجر کے بعد سے آزادی مارچ کے شرکاء مختلف سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔

ایک جانب کارکنوں کی بڑی تعداد نے اپنی مدد آپ کے تحت پنڈال کی صفائی کی تو دوسری جانب کارکن کھیل تماشوں میں بھی مصروف رہے۔ کہیں کارکن فٹبال کھیلتے دیکھے گئے تو کہیں چادر کی مدد سے اپنے ساتھی کو فضا میں اچھالتے نظر آئے۔

دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا جو چھ گھنٹے تک جاری رہا جس میں مرکزی شوریٰ ارکان اور صوبوں کے امیر شریک ہوئے۔ اجلاس میں حکومت کو دی گئی ڈیڈ لائن کے بعد اگلی حکمت عملی پر حتمی مشاورت کی گئی، اجلاس کے فیصلوں کا اعلان مولانا فضل الرحمان پنڈال میں کریں گے۔

دھرنے میں ایک دن کی توسیع، آل پارٹیز بلانے کے فیصلے

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیر اعظم کو استعفی کے لیے دی گئی ڈیڈی لائن میں ایک دن کی توسیع اور بعد کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ آل پارٹیز کے لیے اکرام درانی کو دیگر جماعتوں کے قائدین سے رابطوں کا ٹاسک دیا گیا ہے، اے پی سی کا دن اور وقت رابطوں کے بعد طے کیا جائے گا۔

پولیس و رینجرز کا فلیگ مارچ

اسلام آباد میں امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور رینجرز کی جانب سے فلیگ مارچ کیا گیا۔ اس حوالے سے ترجمان اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ اسلام آباد پولیس ہر قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، پولیس ہائی الرٹ اور افسران و جوانوں کا مورال بلند ہے، شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، مختلف مقامات پرپولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے، کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے   کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔

MediaToday
بڑے علماء پاکستان کے مخالف تھے، ملک چلانے کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑ سکتے، فوادچوہدری

اسلام آباد(نمائندہ جنگ، آن لائن) وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ بڑے علماء پاکستان کے مخالفت تھے، ملک کو کیسے چلانا ہے کا فیصلہ مولانا پر نہیں چھوڑا جاسکتا اب آگے کا سفر مولویوں کا نہیں بلکہ نوجوانوں کا ہے۔یہ بات انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک بیان میں کیا۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ قمری کیلنڈر کے اجراء کیلئے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی میں5 اراکین کی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیا گیاہے،کمیٹی کیلنڈر بنا کر کابینہ کے سامنے رکھے گی،کمیٹی میں سپارکو، محکمہ موسمیات اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ماہر لوگ شامل ہونگے ، یہ ماہرین ایڈوانس ٹیکنالوجی کی مدد سے حتمی جائزہ لیں گے،کمیٹی پاکستان میں قمری کیلنڈر جاری کریگی، پاکستان میں رمضان ، عید اور محرم میں ہمیشہ تنازع ہوتا ہے ، ہمارے پاس تمام ذرائع موجود ہیں جن کی مدد سے ہم ایک حتمی تاریخ کا تعین کر سکتے ہیں۔ فواد چوہدری نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی بھی دوربین سے چاند دیکھتی ہے ، جب دوربین سے
چاند دیکھا جا سکتا ہے تو ایڈوانس ٹیکنالوجی کے استعمال میں کیا حرج ہے، کمیٹی کیلنڈر بنا کر کابینہ کے سامنے رکھے گی، کابینہ کی مرضی ہے وہ یہ کیلنڈر منظور کرے یا رد کرے ، ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کا ایک اپنا قومی کیلنڈر ہونا چاہئے جو جدید سائنسی اصولوں اورسائنسی ٹیکنالوجی پر بنایا جائے ، اس پر رواں ہفتہ سے عملدرآمد شروع ہو جائیکا۔ دریں اثناء فواد چوہدری نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئیٹر پر مولانا فضل الرحمان کی طرف اشار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو چلانے کا فیصلہ اب مولانا پر نہیں چھوڑا جاسکتا ہے اگر اس روح سے دیکھا جائے تو پھر پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علماء تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور وہ علماء قائد اعظم محمد علی جناح کو کافر اعظم کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب آگے کا سفر مولویوں کا نہیں بلکہ نوجوانوں کا ہے ٹیکنالوجی ہی پاکستان کو آگے لے جاسکتی ہے۔

MediaToday Sunday, 5 May 2019
ڈومور کے مطالبے کرنے والا امریکا اب مدد مانگنے پر مجبور ہے، وزیراعظم عمران خان

ڈومور کے مطالبے کرنے والا امریکا اب مدد مانگنے پر مجبور ہے، وزیراعظم عمران خان


پشاور: (دنیا نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے طالبان خان کہنے والے سن لیں، ڈومور کے مطالبے کرنے والا امریکا اب مدد مانگنے پر مجبور، پاکستان نے واشنگٹن حکام اور افغان طالبان کی بات کرا دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مدینہ کی ریاست کا مطلب سنت پر چلنا ہے، آپ ﷺ نے مدینہ کی ریاست میں اصول بنائے تھے، انہوں سادگی سے زندگی گزاری اور سارا پیسہ غریبوں پر لگایا۔ ہماری بھی ساری پالیسی یہ ہونی چاہیے کہ غریب طبقے کو کیسے اوپر لانا ہے، پیسے نہیں بھی ہیں تو ہم نے کمزور طبقے کی مدد کرنی ہے۔ ہم سارے ملک کے بچوں کے لئے ایک نصاب کے لئے کام کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کسی نے ملک کو فلاحی ریاست بنانے کے لئے کچھ کیا ہو، میں نے اپنے سامنے غریب اور امیر میں فرق بڑھتے دیکھا ہے، جب انگریز گیا تو ہمارے ہسپتال بہتر تھے، میں خود گورنمنٹ ہسپتال میں پیدا ہوا لیکن آہستہ اہستہ امیروں کے اور غریبوں کے لئے الگ الگ ہسپتال بن گئے۔

خیبر پختونخوا حکومت کے 100 روز مکمل ہونے پر منعقدہ تقریب سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ خیبر پختوانخوا کے لوگ سیاسی شعور رکھتے ہیں، انہوں نے ہمیں دوسری دفعہ صوبے میں حکومت سازی کا موقع دیا، اس پر عوام کا شکر ادا کرتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر انسان جتنا بھی عقل مند ہو اگر وہ ایماندار نہیں تو کوئی فائدہ نہیں، مجھے وزیراعلیٰ محمود خان کی ایمانداری پر پورا اعتماد ہے، وہ ایک سادہ اور سچے انسان ہیں، غریبوں کے لئے شیلٹر ہاؤس بنانے پر میں انھیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن جب تک ہم اپنے سرمایہ کاروں کو آسانیاں نہیں دیں گے تو سرمایہ کاری کہاں سے ہو گی؟ ہماری حکومت معاشی ترقی اور روزگار کیلئے سرمایہ کاری کو فروغ دے گی۔ انہوں نے کہا کہ سسٹم بہتر کیا تو پیسے کی کوئی کمی نہیں ہو گی، ہم اپنے لوگوں کو اچھی تنخواہیں دے سکیں گے۔

پاک امریکا تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ امریکا نے طالبان سے مذاکرات کیلئے ہم سے تعاون مانگا، ماضی میں ہمیں ڈومور کہنے والا امریکا اب طالبان سے بات چیت کروانے کا کہہ رہا ہے اور مدد مانگ رہا ہے، پاکستان نے واشنگٹن حکام اور افغان طالبان کی بات کرا دی ہے۔

عمران خان نے واضح کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمیں فاروڈ بلاک کا بھی مسئلہ نہیں، جو وزیر کام نہیں کرے گا اور آفس نہیں جائے گا، اس سے وزارت لے لی جائے گی، اگر کوئی آپ کے نیچے کام نہیں کر رہا اس کو نکالیں، اگر کوئی بھی بیوروکریٹ آپ کے سامنے رکاوٹ پیدا کرتا ہے تو اس کے خلاف ایکشن لیں۔

MediaToday Tuesday, 18 December 2018
پاکستان میں بھارتی فلمیں بند نہیں کرسکتے، فواد چوہدری
پاکستان میں بھارتی فلمیں بند نہیں کرسکتے، فواد چوہدری

 اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں بھارتی فلمیں بند نہیں کرسکتے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہم غیر ملکی فلم سازوں کو لانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ ملے۔ پاکستان کی فلم انڈسٹری کو پاؤں پرکھڑا کرنا میرا ہدف ہے، اس وقت ملک میں 187سینما اسکرینز ہیں جو گیارہ سو ہونی چاہئیں، فلم انڈسٹری میں جدت کے ساتھ نئے سینما گھر بنائیں گے، میں بھارت سمیت تمام ملکوں کے نشریاتی مواد پر پابندی کے خلاف ہوں، مقامی اور بین الاقوامی فلمی صنعت دونوں کو ساتھ لے کرچل رہے ہیں، انڈین فلموں کی نمائش بند نہیں کرسکتے، دوسرے ممالک کی فلمیں بند ہونے سے ہماری انڈسٹری بیٹھ جائے گی۔

MediaToday
برٹش ائیر ویز کا پاکستان کے لیے پروازیں بحال کرنے کا اعلان
برٹش ائیر ویز کا پاکستان کے لیے پروازیں بحال کرنے کا اعلان


 اسلام آباد: برطانیہ نے اسلام آباد سے لندن کے لیے برٹش ائیر ویز کی پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے

سلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران برٹش ایئر ویز نے 10 سال بعد پاکستان میں پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا، اس موقع پر قائم مقام برطانوی ہائی کمشنررچرڈ کراؤڈر، وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی زلفی بخاری بھی موجود تھے۔
نمائندہ برٹش ایئر ویز نے کہا کہ پاکستان کی ثقافت بہت مشہور ہے اور یہ خوبصورت ملک ہے، پاکستان میں سیکیورٹی صورت حال بہتر ہونے پر کمپنی نے فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ برٹش ایئرویز  اسلام آباد سے ہیتھرو ایئر پورٹ فلائٹ آپریٹ کرے گی، لندن سے اسلام آباد ہفتہ وار تین پروازیں چلائی جائیں گی۔ فلائٹ آپریشن آئندہ سال جون سے  شروع ہوگا اور دو طرفہ ٹکٹ 499 پاؤنڈ میں دستیاب ہوگا۔
اس موقع پرقائم مقام برطانوی ہائی کمشنر رچرڈ کراؤڈر نے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں تیسرا بڑا سرمایہ کار ہے، دونوں ممالک کے تعلقات بہت خاص ہیں، برطانیہ میں 15 لاکھ لوگوں کی آبائی جڑیں پاکستان میں ہیں، پاک فوج اورعوام نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دی ہیں، پاکستان میں سیکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہے، پاکستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا کہ برٹش ایئرویز کی جانب سے پاکستان کے لیے پروازیں دوبارہ بحال کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کا رابطہ دنیا بھر سے قائم رہے۔
پاک فوج کا خیر مقدم
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے برٹش ایئر ویز کا فلائٹ آپریشن بحال ہونے پر سوشل میڈیا پر”ہمیں آگے ہی جانا ہے”کے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ برٹش ایئرویز کا پاکستان میں فلائٹ آپریشن بحال کرنے کا شکریہ، قوم اور سیکیورٹی فورسز کی 10 سالہ جدوجہد کے فوائد سامنے آنے لگے۔ 

MediaToday
>